بھٹکل:25/اپریل(ایس اؤنیوز) جالی پٹن پنچایت میں منگل کو منعقدہ ماہانہ میٹنگ میں، پنچایت صدر اور ممبران کے درمیان ترقیاتی کاموں اور عملی منصوبہ بندی اور امداد تقسیم کے دوران متعلقہ وارڈس کے ممبران کو نظر انداز کئے جانے کو لے کر گرما گرم بحث کے نتیجے میں میٹنگ ہنگامہ کی نظر ہوگئی۔
میٹنگ میں گرمی اس وقت آئی جب پنچایت کے ممبران نے صدر پر الزام لگایا کہ پنچایت کے وارڈوں کا عملی منصوبہ (ایکشن پلان ) اور ترقیاتی کاموں کے لئے منظور رقم کی تقسیم کاری کے موقع پر وارڈ ممبران کو نظر انداز کیا جارہاہے،متعلقہ وارڈوں میں راستوں کی مرمت، پینےکے پانی کی سپلائی اور ڈرنیج کے لئے منظور کردہ رقم ناکافی ہے اور پنچایت کی طرف سے پانی سپلائی پر مامور ملازمین من مانی کررہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ،جب پنچایت صدر عبدالرحیم نے جواب دینے کی کوشش کی تو ممبران نے متعلقہ اُمور کے ساتھ ساتھ صدر پر من مانی کا بھی الزام لگایا تو وہ آپے سے باہر ہوگئے اور بازاری لہجہ میں سطحی زبان کااستعمال کیا جس پر بعض ممبران نے بے اطمینانی کا اظہار کیا۔ ممبران نے عملی منصوبے کے تحت تقسیم شدہ رقم کو نا انصافی قرار دیتے ہوئے اعلیٰ افسران سے ملاقات کرتے ہوئے شکایت کرنےکی بات کہی۔ اس موقع پر نائب صدر لکشمی مادیو نائک، اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمن آدم، چیف آفیسر وینکٹیش وغیرہ موجود تھے۔
ساحل آن لائن سے بات کرتے ہوئے جالی پنچایت کے ممبر آفتاب حسین دامودی نے پنچایت صدر پر من مانی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ کسی مسئلہ کو لےکر صدر سے کوئی بات پوچھتے ہیں تو بیٹھو، بیٹھو کہتے ہیں اور بار بار ترقی ، ترقی کی بات کہتے ہیں کیا ترقی ہورہی ہے پتہ نہیں چل رہاہے۔ انہوں نے وارڈوں میں کاموں کے لئے مساوی رقم تقسیم نہ کئے جانے کا الزام لگایا۔ اسی طرح ایک اور ممبر عمران لنکا نے بھی ساحل آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کچھ وارڈوں کو بہت ہی کم رقم منظور کی گئی ہے، گویا متعلقہ وارڈس ممبران کے منہ بند کرنے کے لئے کچھ دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنچایت میں جو بھی کیا جاتاہے اس کی متعلقہ ممبران کو خبر ہی نہیں ہوتی۔
اس موقع پر چیف آفیسر وینکٹیش نے ساحل آن لائن سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پنچایت کے لئے جو رقم منظور ہوتی ہے وہ الگ الگ زمروں کے تحت ہوتی ہے ، فی کس ممبران کو رقم تقسیم کرنے کا کوئی قانون موجود نہیں ہے، بعض ممبران غلط فہمی کا شکار ہیں، ایکشن پلان میٹنگ کے دوران ہی منظورہواہے، ممبران میٹنگ کے آخر تک موجود رہیں تو انہیں سب جانکاری ملتی ہے انہوں نے سوال کیا کہ ایجنڈے کے دو تین نکات کے بعد میٹنگ سے اٹھ کر چلے جاتےہیں تو کیسے انہیں مکمل جانکاری ملے گی ۔
عبدالرحیم شیخ سے جب ساحل آن لائن نے معاملے کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے ممبران کے لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا، انہوں نے کہا کہ جالی پنچایت حدود میں ترقیاتی کاموں میں کوئی تفریق نہیں ہوئی ہے۔جتنے بھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ سب بے بنیاد اور سیاسی مقصد سے لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے علاقہ کی ترقی کے لئے کیا کام کیا ہے اور کون کونسے علاقوں میں کس طرح کے ترقیاتی کام ہوئے ہیں، اُس کے تعلق سے کوئی بھی آکر جائزہ لے سکتے ہیں۔